Type Here to Get Search Results !

زیادہ دیکھی جانے والی

Bottom Ad

عراقچی کا برطانیہ کو انتباہ، ایران پر حملے میں تعاون 'ناقابلِ قبول' قرار

 

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے برطانیہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی میں تعاون، چاہے وہ ماضی کے دفاعی معاہدوں کی بنیاد پر ہی کیوں نہ ہو، تہران کے لیے ناقابلِ قبول ہوگا۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق عباس عراقچی نے یہ مؤقف برطانیہ کے وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ کے ساتھ ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کے دوران اختیار کیا۔

وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ عراقچی نے زور دیا کہ کسی دوسرے ملک پر حملے کے لیے کسی ریاست کی سرزمین یا فوجی تنصیبات استعمال کرنے کی اجازت دینا بین الاقوامی قانون کے تحت "جارحیت" کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

ان کے مطابق ایسی صورت میں جس ملک کو نشانہ بنایا جائے، اسے اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے دفاع کا حق حاصل ہوتا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے گفتگو کے دوران کہا کہ برطانیہ ایران کے خلاف کسی جنگ کا حصہ نہیں ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو ہی مؤثر راستہ سمجھتا ہے۔

تاہم برطانوی حکومت یا ایڈ ملی بینڈ کی جانب سے اس ٹیلی فونک رابطے کی تفصیلات پر تاحال کوئی الگ سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔

دریں اثنا، ایڈ ملی بینڈ نے متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان سے ملاقات کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان جاری کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال، خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت اور آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کے امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی برادری سفارتی ذرائع سے تنازع کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Top Post Ad

Below Post Ad

Bottom Ad