امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت فوجی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ ایران کو "بہت بری طرح نشانہ بنائے گا۔"
جمعے کو کیمپ ڈیوڈ میں کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنی کارروائیاں مزید تیز کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا، "ہم انھیں بڑی شدت سے نشانہ بنائیں گے اور بالآخر وہ یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ اب ہم مزید یہ برداشت نہیں کر سکتے۔"
دریں اثنا، امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے سمیت دیگر اہم اہداف پر آج یا کل نئے بڑے حملوں کی منظوری دینے پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم وائٹ ہاؤس کی جانب سے ان رپورٹس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کو پانچ ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، تاہم تنازع کے خاتمے کے آثار اب بھی دکھائی نہیں دے رہے اور دونوں جانب سے ایک بار پھر حملوں کا تبادلہ جاری ہے۔
اے ایف پی نے اپنے ایک تجزیے میں کہا ہے کہ پانچ ماہ سے جاری اس تنازع کے باوجود صدر ٹرمپ اب تک ایسی حکمتِ عملی اختیار نہیں کر سکے جس سے کشیدگی کا خاتمہ ممکن ہو، جبکہ ان کے لیے دستیاب سفارتی اور عسکری آپشنز بھی محدود ہوتے جا رہے ہیں۔
ادارے کے مطابق امریکی فضائی حملے اب تک ایران کو اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر سکے، جبکہ جنگ کے دائرہ کار میں اضافے نے مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور امریکہ کو بھی نئے سفارتی اور عسکری چیلنجز کا سامنا ہے۔
ایک تبصرہ شائع کریں
0 تبصرے