ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج اس وقت تک غزہ میں اپنی موجودہ پوزیشن برقرار رکھے گی جب ت حماس 'حقیقی معنوں میں' اپنے ہتھیار نہیں ڈالتی۔
دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بھاری ہتھیار صرف اسی صورت میں حوالے کرے گی جب اسرائیل غزہ میں ف کارروائیاں ختم کرے اور اپنی تمام افواج کا مکمل انخلا یقینی بنائے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ بورڈ آف پیس غزہ میں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے مکمل غیر مسلح ہونے سے متعلق ایک معاہدے پر پہنچ گیا ہے۔
جمعے کو کیمپ ڈیوڈ میں کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل مجوزہ معاہدے سے مطمئن ہے اور اسے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیتا ہے۔
تاہم اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر، جو انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھتے ہیں، نے اس مجوزہ معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے اسے "ناقابل قبول" قرار دیا ہے۔
اسرائیل کا مؤقف
اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے تاحال اس منصوبے پر عوامی سطح پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار کے مطابق اسرائیل کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔
عہدیدار نے کہا کہ اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) غزہ میں اپنی موجودہ 'ییلو لائن' پوزیشن سے اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹیں گی جب تک حماس مکمل طور پر غیر مسلح نہیں ہو جاتی۔
'ییلو لائن' غزہ کے اندر وہ حد بندی ہے جس پر گزشتہ سال امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے دوران اتفاق کیا گیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت اسرائیل نے عارضی طور پر غزہ کے تقریباً 53 فیصد علاقے پر کنٹرول برقرار رکھا تھا۔
تاہم حالیہ مہینوں میں وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ کے 60 فیصد سے زیادہ علاقے پر کنٹرول رکھتی ہے، جبکہ مئی میں انہوں نے کہا تھا کہ فوج کو 70 فیصد علاقے تک پیش قدمی کی ہدایت دی گئی تھی۔
حماس کی شرائط
حماس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کسی بھی معاہدے کی بنیاد غزہ میں اسرائیلی حملوں کا مکمل خاتمہ اور اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا ہونا چاہیے۔
تنظیم کے مطابق فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی ضمانت بھی کسی بھی سیاسی تصفیے کا لازمی حصہ ہونی چاہیے۔
پس منظر
امریکہ کی ثالثی میں تیار کیا گیا یہ مجوزہ معاہدہ غزہ جنگ بندی منصوبے کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہے، جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ، قیدیوں اور یرغمالیوں سے متعلق معاملات کو آگے بڑھانا، غزہ کی تعمیرِ نو اور خطے میں دیرپا امن کے لیے فریم ورک تیار کرنا ہے۔
گزشتہ سال ستمبر میں پیش کیے گئے 20 نکاتی منصوبے میں بورڈ آف پیس کے قیام، حماس کو غیر مسلح کرنے، اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا اور غزہ کی تعمیرِ نو سمیت متعدد تجاویز شامل کی گئی تھیں۔
ایک تبصرہ شائع کریں
0 تبصرے