تحریر: محمد اشرف | اگست 01, 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت فوجی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ ایران کو "بہت بری طرح نشانہ بنائے گا۔"
جمعے کو کیمپ ڈیوڈ میں کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنی کارروائیاں مزید تیز کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم انھیں بڑی شدت سے نشانہ بنائیں گے اور بالآخر وہ یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ اب ہم مزید یہ برداشت نہیں کر سکتے۔"
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کو پانچ ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، تاہم تنازع کے خاتمے کے آثار اب بھی دکھائی نہیں دے رہے۔ اے ایف پی کے تجزیے کے مطابق صدر ٹرمپ اب تک ایسی حکمتِ عملی اختیار نہیں کر سکے جس سے کشیدگی کا خاتمہ ممکن ہو، جبکہ ان کے لیے دستیاب سفارتی اور عسکری آپشنز بھی محدود ہوتے جا رہے ہیں۔
امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے سمیت دیگر اہم اہداف پر نئے حملوں کی منظوری دینے پر بھی غور کر رہے ہیں، تاہم وائٹ ہاؤس کی جانب سے ان رپورٹس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
پاکستان پر ممکنہ اثرات
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران امریکہ کشیدگی میں مزید اضافہ خلیجی خطے سے تیل کی ترسیل اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والی شپنگ کو متاثر کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے — اور اس کا براہِ راست اثر پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں اور مہنگائی پر پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ خلیجی ممالک میں مقیم لاکھوں پاکستانی تارکینِ وطن کی سلامتی اور ترسیلاتِ زر بھی اس بڑھتی ہوئی کشیدگی سے متاثر ہونے کا امکان ہے۔
ذریعہ: اے ایف پی، سی این این

ایک تبصرہ شائع کریں
0 تبصرے