سڈنی: آسٹریلیا نے پیغام رسانی کی معروف ایپ ٹیلی گرام کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔ حکام کا الزام ہے کہ ٹیلی گرام نے اپنی ویب سائٹ سے شدت پسند اور "دہشت گردی کی حمایت کرنے والا" مواد، جس میں کرائسٹ چرچ مسجد حملوں کی ویڈیوز بھی شامل ہیں، ہٹانے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا۔
آسٹریلیا کی ای سیفٹی کمشنر جولی اِنمن گرانٹ نے کہا ہے کہ اگر ٹیلی گرام کو ملک کے آن لائن سیفٹی ایکٹ کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کا مرتکب پایا گیا تو اسے 5 کروڑ 46 لاکھ آسٹریلوی ڈالر تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ٹیلی گرام نے دنیا کے بعض انتہائی خطرناک شدت پسند حملوں سے متعلق مواد کو اس وقت بھی آن لائن رہنے دیا جب کمپنی کو اس بارے میں آگاہ کیا جا چکا تھا۔
جولی اِنمن گرانٹ نے کہا، "یہ ہم سب کے لیے تشویش کا باعث ہونا چاہیے،" اور واضح کیا کہ "کوئی بھی آن لائن پلیٹ فارم قانون سے بالاتر نہیں ہے۔"
یہ قانونی کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روسی حکام نے ٹیلی گرام کے بانی پاول دوروف پر دہشت گردی میں سہولت کاری کے الزامات عائد کیے ہیں۔ روس کا دعویٰ ہے کہ اس میسجنگ ایپ کو یوکرینی خفیہ اداروں نے بھرتی کے لیے استعمال کیا۔ اس سے قبل 2024 میں فرانس میں بھی دوروف کے خلاف تحقیقات شروع کی گئی تھیں، جن میں الزام تھا کہ ٹیلی گرام غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے مؤثر نگرانی نہیں کر رہا۔
اِنمن گرانٹ نے بتایا کہ آسٹریلیا کے ای سیفٹی ادارے نے مارچ 2024 میں ٹیلی گرام سے یہ پوچھ گچھ شروع کی تھی کہ وہ دہشت گردی اور انتہا پسندی سے متعلق مواد کے خاتمے کے لیے کیا اقدامات کر رہا ہے۔ ان کے مطابق کئی ماہ تک ادارے کو کمپنی کی جانب سے مناسب جواب نہیں ملا۔
انہوں نے کہا کہ بعد میں ٹیلی گرام نے رابطہ کرنا شروع کیا، تاہم ان کے مطابق پلیٹ فارم اب بھی ایسا ماحول فراہم کر رہا تھا جہاں شدت پسند مواد آسانی سے دستیاب تھا۔
اِنمن گرانٹ نے کہا کہ ایسا مواد صارفین کو "حساسیت سے محروم، انتہا پسندی کو معمول کا حصہ اور بعض اوقات شدت پسند" بنا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ ٹیلی گرام بعض مواقع پر حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا گیا۔
ٹیلی گرام کے ترجمان نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی کی دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں پہلے ہی واضح طور پر دستاویزی شکل میں موجود ہیں۔
ترجمان نے کہا، "ہم ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور عدالت میں ان کا مقابلہ کریں گے۔"
اِنمن گرانٹ کے مطابق ٹیلی گرام پر مبینہ طور پر دستیاب شدت پسند مواد میں 2019 کے کرائسٹ چرچ مسجد حملوں، 2022 میں نیویارک کے بفیلو فائرنگ واقعے اور دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے پھانسیوں کی ویڈیوز شامل تھیں۔
انہوں نے کہا کہ دسمبر میں بانڈی (Bondi) میں یہودی تہوار کو نشانہ بنانے والے مہلک حملے کے بعد یہ بات مزید اہم ہو گئی ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور عوام کے تحفظ کے لیے اقدامات کریں۔
ای سیفٹی کمشنر نے کہا کہ آسٹریلیا ٹیلی گرام جیسے پلیٹ فارمز کو چلانے کے لیے لائسنس جاری نہیں کرتا، تاہم حکومت کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ وفاقی عدالت سے کسی سروس کو بند کرنے کی درخواست کر سکے۔
انہوں نے کہا، "ہم نے ابھی تک یہ اختیار استعمال نہیں کیا،" تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے آئندہ کے اقدامات کا فیصلہ کیا جائے گا۔
اس سے قبل فروری 2025 میں آسٹریلیا کے ای سیفٹی ریگولیٹر نے ٹیلی گرام پر 10 لاکھ آسٹریلوی ڈالر جرمانہ عائد کیا تھا کیونکہ کمپنی بچوں کے استحصال اور شدت پسند مواد سے نمٹنے کے طریقہ کار سے متعلق سوالات کے بروقت جواب دینے میں ناکام رہی تھی۔
ایک تبصرہ شائع کریں
0 تبصرے