کیف: یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے روسی میزائل حملے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی ہلاکت کو "خوفناک جرم" قرار دیا ہے۔
زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر وورونوف خاندان کی تصویر شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ والدین آرٹم اور اولینا اور ان کے تین بچے — مارک، ازاریاہ الائی اور ایمیلیا — روسی میزائل حملے میں اس وقت جاں بحق ہوئے جب ان کا گھر مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔
خاندان کے دیگر بچے — زاخار، ڈومینیکا، وائیوریکا، فیڈریکا اور ان کا پوتا آرٹم تاحال لاپتہ ہیں۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب روس نے رات کے وقت یوکرین پر 70 سے زائد میزائل اور 280 سے زیادہ ڈرونز کے ذریعے بڑا حملہ کیا۔
سب سے شدید حملہ زیلنسکی کے آبائی شہر کریوی ریہ کے قریب کیا گیا، جہاں یوکرینی حکام کے مطابق کم از کم 8 افراد ہلاک ہوئے۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب زیلنسکی نے اسی ہفتے واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی اور امریکہ سے یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل انٹرسیپٹرز تیار کرنے کا لائسنس دینے کی درخواست کی تھی تاکہ روسی میزائل حملوں سے دفاع کیا جا سکے۔
زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ روسی افواج نے ڈنیپروپیٹرووسک کے علاقے میں کریوی ریہ کے قریب واقع علاقے رادوشنے میں ایک عام خاندان کے گھر کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ میزائل حملہ اتنا شدید تھا کہ گھر کا تقریباً کوئی حصہ باقی نہیں بچا۔ ملبے سے انسانی اعضا ملے ہیں، جن کی شناخت فرانزک تحقیقات کے ذریعے کی جا رہی ہے۔
زیلنسکی نے کہا کہ روسی حملوں کو روکنے کے لیے پوری دنیا کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کی جانب سے پیٹریاٹ میزائلوں کا مطالبہ کسی سیاسی مقصد کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے ہے۔
مقامی دفاعی حکام کے مطابق حملے میں دو رہائشی مکانات تباہ ہوئے۔ مزید 8 افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک 84 سالہ خاتون بھی شامل ہیں جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔ دو بچوں کو ملبے سے زندہ نکالا گیا۔
پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے کہا کہ جمعرات کی صبح مشرقی پولینڈ کے ایک کھیت میں گرنے والی چیز ممکنہ طور پر روسی میزائل تھا۔
یوکرین کے قائم مقام وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے اس سے قبل کہا تھا کہ روس کا Kh-101 کروز میزائل یوکرین پر بڑے حملے کے دوران پولینڈ کی فضائی حدود میں داخل ہوا، جو نیٹو کی فضائی حدود کی خلاف ورزی ہے۔
حملے سے چند گھنٹے قبل زیلنسکی نے خبردار کیا تھا کہ روس ایک بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے۔
دارالحکومت کیف میں میئر وٹالی کلچکو کے مطابق رات کے حملوں میں ایک شخص ہلاک ہوا جبکہ تین غیر رہائشی عمارتوں میں آگ لگ گئی۔
پولتاوا کے میئر نے بھی ایک ہلاکت کی اطلاع دی اور بتایا کہ ایک نووا پوشتا (Nova Poshta) ڈاک مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔
لیویو شہر میں بھی دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جہاں میئر آندری سادووی نے کہا کہ رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ کئی افراد زخمی ہوئے جبکہ کچھ لوگ عمارتوں کے ملبے تلے دب گئے جنہیں امدادی کارکنوں نے نکالا۔
دوسری جانب پڑوسی ملک پولینڈ میں وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک اس مقام پر پہنچے جہاں روسی حملے کے دوران پولینڈ کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے بعد ایک بڑا گڑھا دریافت ہوا تھا۔
پولینڈ کی مسلح افواج نے بتایا کہ انہوں نے روسی حملوں کے دوران جنگی طیارے فضا میں بھیجے، کیونکہ مغربی یوکرین کے اوپر کئی میزائلوں کی نشاندہی ہوئی تھی جو پولینڈ کی فضائی حدود کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔
حکام کے مطابق ایک میزائل پولینڈ کی سرحد سے تقریباً 5 کلومیٹر کے فاصلے تک آیا، تاہم بعد میں اس کا رخ بدل گیا اور وہ مشرق کی جانب چلا گیا۔
بعد ازاں پولینڈ کی فوج نے لوبلن صوبے کے گاؤں تارنوا کولونیا کے قریب ایک کھیت میں میزائل کا ملبہ اور گڑھا دریافت کیا۔ حکام کے مطابق جائے وقوعہ کو محفوظ بنا لیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔
ایک تبصرہ شائع کریں
0 تبصرے