تہران: ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے جمعرات کو دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن کے مشرقی صحرائی علاقے میں واقع الازرق ایئر بیس کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں تین امریکی ایف-35 لڑاکا طیارے تباہ جبکہ مزید تین کو شدید نقصان پہنچا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق آئی آر جی سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اس کی ایرو اسپیس فورس نے کئی بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے الازرق ایئر بیس کے اس حصے کو نشانہ بنایا جہاں امریکی ایف-35 طیارے تعینات تھے، جبکہ مرمت اور دیکھ بھال کے ہینگر کو بھی ہدف بنایا گیا۔ بیان میں اس کارروائی کو ایران کے جزیرۂ قشم پر دو رہائشی گھروں پر ہونے والے امریکی حملے کا جواب قرار دیا گیا۔
آئی آر جی سی کے مطابق حملے میں تین ایف-35 لڑاکا طیارے مکمل طور پر تباہ ہوگئے جبکہ مزید تین کو شدید نقصان پہنچا۔ بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ حملے کے نتیجے میں متعدد فوجی افسران اور طیاروں کی دیکھ بھال پر مامور تکنیکی عملہ ہلاک ہوا۔
یہ بیان اس واقعے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا جب ایران کے جنوبی جزیرے قشم میں ایک رہائشی مکان میزائل حملے کی زد میں آیا۔ ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق جنوبی ایران میں امریکی حملوں کی لہر کے دوران پیش آنے والے اس واقعے میں دو افراد زخمی ہوئے۔
دوسری جانب اردن کی مسلح افواج نے بتایا کہ جمعرات کو ایران سے داغے گئے پانچ میزائلوں کو ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے قبل ہی تباہ کر دیا گیا۔ اردن کے مطابق مسلسل چوتھے روز ایران کی جانب سے میزائل یا ڈرون حملوں کی کوشش کی گئی ہے۔
اس سے قبل اردن نے پیر کو دو ڈرون، منگل کو ایک ڈرون اور بدھ کو پانچ میزائل مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا تھا، جس سے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی مزید نمایاں ہو گئی ہے۔
ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ امریکی افواج نے ایران میں اہداف کو اس کارروائی کے جواب میں نشانہ بنایا، جسے اس کے بقول ایک روز قبل مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی فوجیوں پر ایرانی حملوں کی کوشش کا ردعمل قرار دیا گیا۔
واضح رہے کہ الازرق ایئر بیس پر حملے، ایف-35 طیاروں کی تباہی اور جانی نقصان سے متعلق ایران کے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ اس حوالے سے امریکہ یا اردن کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ تصدیق یا ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ایک تبصرہ شائع کریں
0 تبصرے