Type Here to Get Search Results !

زیادہ دیکھی جانے والی

Bottom Ad

عراق نے امریکی۔سعودی حملوں میں تعاون کے الزامات مسترد کر دیے


 بغداد: عراقی حکومت نے جمعرات کو ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ اس نے حالیہ امریکی۔سعودی فوجی حملوں میں کسی بھی قسم کی سہولت یا تعاون فراہم کیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نہ تو اسے ان حملوں کی پیشگی اطلاع تھی اور نہ ہی اس نے ان کی اجازت دی، جبکہ عراق اپنی سرزمین کو کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال ہونے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔

عراقی خبر رساں ادارے (آئی این اے) کے مطابق حکومتی ترجمان حیدر العبودی نے کہا کہ وزارتی کونسل برائے قومی سلامتی نے امریکی اور سعودی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں عراق کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

العبودی نے کہا کہ عراقی حکومت کا مؤقف ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ خطے میں کشیدگی اور تنازعات سے بچنے کا واحد راستہ سفارت کاری اور مذاکرات ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عراق نے نہ کبھی اپنی سرزمین کو کسی ہمسایہ ملک پر حملوں کے لیے استعمال ہونے دیا ہے اور نہ آئندہ ایسا ہونے دے گا۔

انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ حکومت نے عراق کے اندر کسی مخصوص مقام یا گروہ کو نشانہ بنانے کی اجازت دی تھی۔ ان کے مطابق حکومت کو اس فوجی کارروائی کے بارے میں پہلے سے کوئی معلومات نہیں تھیں۔

حیدر العبودی نے بتایا کہ حملوں کے بعد وزیراعظم علی الزیدی کا سعودی عرب کا طے شدہ دورہ مؤخر کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عراق تمام ممالک کے ساتھ شراکت داری اور اچھے ہمسایہ تعلقات پر یقین رکھتا ہے اور اس نے ہمیشہ خود کو علاقائی تنازعات سے دور رکھنے کی کوشش کی ہے۔

العبودی کے مطابق حملوں میں عراق کے سات صوبوں کو نشانہ بنایا گیا، جن کے نتیجے میں پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) کے 18 سے زائد اہلکار جاں بحق جبکہ 20 دیگر زخمی ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ بغداد نے سعودی عرب سے ان الزامات کے ثبوت طلب کیے ہیں کہ سعودی عرب پر حملے عراقی سرزمین سے کیے گئے تھے۔ تاہم عراقی حکومت کی تشکیل کردہ تحقیقاتی کمیٹیوں کو ایسے دعوؤں کی تائید میں کوئی شواہد نہیں ملے۔

انہوں نے کہا، "ہم سعودی عرب سے درخواست کرتے ہیں کہ اگر اس کے پاس اس حوالے سے کوئی سکیورٹی معلومات موجود ہیں تو وہ عراق کے ساتھ شیئر کرے تاکہ ان کی جانچ پڑتال کی جا سکے۔"

العبودی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ عراق میں داعش کے خلاف قائم امریکی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد کے مشن کے خاتمے کے لیے 30 ستمبر کی مقررہ ڈیڈ لائن برقرار ہے۔

یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب امریکہ اور سعودی عرب نے بدھ کی صبح عراق میں مختلف اہداف پر مشترکہ فضائی حملے کیے تھے۔ عراقی حکومت نے ان حملوں کو اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی تھی۔

دوسری جانب سعودی عرب کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق کے استعمال کے طور پر کی گئی، کیونکہ اس کے بقول سعودی تیل تنصیبات پر حملے عراقی سرزمین سے کیے گئے تھے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی عراقی حکومت کے تعاون سے کی گئی، تاہم بغداد نے ایک بار پھر اس دعوے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نہ اس نے حملوں کی اجازت دی اور نہ ہی اسے ان کے بارے میں پیشگی علم تھا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Top Post Ad

Below Post Ad

Bottom Ad