کراچی میں مبینہ طور پر بیوی کے قتل کے الزام میں گرفتار ایک شخص پولیس حراست کے دوران اچانک جاں بحق ہوگیا، جس کے بعد کیس نے نیا اور پیچیدہ رخ اختیار کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق محمد خان کو تیموریہ تھانے میں درج اس مقدمے کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا جو 23 جون کو نارتھ ناظم آباد کے علاقے عرفات ٹاؤن کچی آبادی میں ایک خاتون کی لاش ملنے کے بعد درج ہوا تھا۔ بعد ازاں اسے مزید تفتیش کے لیے جوہرآباد انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ دورانِ حراست رات گئے ملزم کی طبیعت اچانک بگڑ گئی، جس پر اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکا۔
ٹرمپ کی پاکستان آمد منسوخ، ایران مذاکرات میں پیش رفت رک گئی
ابتدائی معلومات کے مطابق مقتولہ 40 سالہ روبینہ کے بارے میں محمد خان نے بیان دیا تھا کہ ان کی طبیعت چند روز قبل چاول کھانے کے بعد خراب ہوئی تھی اور وہ گھر میں ہی انتقال کر گئی تھیں۔ تاہم پولیس کو تفتیش کے دوران اس بات کی بھی تصدیق نہیں ہوسکی کہ محمد خان واقعی مقتولہ کا شوہر تھا یا نہیں۔
بعد ازاں مقتولہ کے بھائی علی نواز کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا، جس کے بعد محمد خان کو باضابطہ طور پر گرفتار کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ روبینہ طلاق یافتہ تھیں اور اپنے سابق شوہر سے کئی سال قبل علیحدگی اختیار کر چکی تھیں۔ وہ سات بچوں کی ماں تھیں، جن میں پانچ بیٹیاں اور دو بیٹے شامل ہیں، جبکہ ان کا تعلق اندرونِ سندھ سے بتایا جاتا ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق شبہ ہے کہ خاتون کی موت زہریلی چیز کے استعمال سے ہوئی ہو سکتی ہے، تاہم اصل وجہ پوسٹ مارٹم اور کیمیکل رپورٹ آنے کے بعد ہی واضح ہوگی۔
ادھر پولیس حراست میں ملزم کی موت کے بعد معاملہ مزید سنگین ہوگیا ہے، اور اب دونوں اموات کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
https://prourdupost1.blogspot.com/2023/10/blog-post_20.html?m=1

ایک تبصرہ شائع کریں
0 تبصرے