اسلام آباد: حکومت نے نئے مالی سال 2026-27 کے لیے گاڑیوں پر عائد مختلف ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں میں اہم تبدیلیوں کی منظوری دے دی ہے، جن کا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا۔
فنانس بل کے مطابق 2000 سے 3000 سی سی تک کی درآمدی گاڑیوں پر 86 فیصد جبکہ 3000 سی سی سے زائد گاڑیوں پر 92 فیصد ڈیوٹی عائد کی جائے گی۔ دوسری جانب متعدد کیٹیگریز میں درآمدی گاڑیوں پر مجموعی ٹیکس اور ڈیوٹی کی شرح میں نمایاں کمی بھی کی گئی ہے۔
نئی شرحوں کے تحت 1800 سی سی گاڑیوں پر ٹیکس اور ڈیوٹی کا بوجھ 156 فیصد سے کم ہو کر 74 فیصد رہ جائے گا۔ اسی طرح 1500 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر شرح 91 فیصد سے کم ہو کر 57 فیصد، جبکہ 1000 سے 1500 سی سی گاڑیوں پر 76 فیصد سے کم ہو کر 52 فیصد مقرر کر دی گئی ہے۔ 850 سی سی گاڑیوں کے لیے یہ شرح 66 فیصد سے گھٹ کر 42 فیصد ہو جائے گی۔
حکومت نے نئی آٹو پالیسی کے تحت 1800 سی سی تک کی گاڑیوں پر اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی نہ لگانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے حوالے سے فنانس بل میں بتایا گیا ہے کہ 75 ہزار ڈالر تک مالیت کی درآمدی ای وی پر 30 فیصد کسٹم ڈیوٹی جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار ڈالر سے زائد مالیت کی گاڑیوں پر 40 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد ہوگی۔
فنانس بل کے مطابق یکم جولائی سے 1000 سی سی تک کی گاڑیوں پر ایک مرتبہ 10 ہزار روپے فکس ٹیکس بھی وصول کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ 2010 سے پہلے کے ماڈلز کی 1000 سی سی تک گاڑیوں کے لیے 20 ہزار روپے ٹوکن ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔
1001 سے 1300 سی سی تک کی گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس انوائس مالیت کے 0.3 فیصد کے برابر ہوگا، جبکہ بعض دیگر کیٹیگریز کے لیے ٹوکن ٹیکس کی شرح مجموعی انوائس مالیت کے 0.25 فیصد کے برابر مقرر کی گئی ہے۔
مزید برآں، 2010 سے پہلے کے ماڈلز کی گاڑیوں پر 2500 روپے اور 2010 کے بعد کے ماڈلز پر 6200 روپے ٹوکن ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
https://prourdupost1.blogspot.com/2023/10/blog-post_20.html?m=1

ایک تبصرہ شائع کریں
0 تبصرے