Type Here to Get Search Results !

زیادہ دیکھی جانے والی

Bottom Ad

جارج اور امل کلونی جنگلاتی آگ کے باعث فرانس میں اپنا گھر چھوڑ گئے

بریگنولز: ہالی ووڈ اداکار جارج کلونی، ان کی اہلیہ امل کلونی اور ان کے دو بچوں نے جنوبی فرانس کے علاقے میں پھیلنے والی شدید جنگلاتی آگ کے باعث اپنا گھر خالی کر دیا ہے۔

خاندان نے رواں ہفتے کے آغاز میں بریگنولز میں واقع اپنی رہائش گاہ اس وقت چھوڑ دی جب آگ علاقے کے قریب پہنچ گئی۔ جارج کلونی نے بریگنولز کے میئر ڈیڈیئر بریمنڈ کو لکھے گئے خط میں کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ ان کا خوبصورت گھر اس تباہ کن صورتحال سے محفوظ رہ پائے گا یا نہیں۔

کلونی نے خط میں لکھا، "ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارا خوبصورت گھر اس خوفناک صورتحال سے بچ پائے گا یا نہیں۔" انہوں نے کہا کہ وہ اور امل اس بات کے لیے پرعزم ہیں کہ حالات چاہے جیسے بھی ہوں، وہ اپنے گاؤں کی بحالی میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

جوڑے نے کہا کہ انہیں بریگنولز اور وہاں رہنے والے اپنے دوستوں سے محبت ہے اور وہ اس مقامی کمیونٹی کا حصہ رہنا چاہتے ہیں۔

جارج اور امل کلونی نے 2021 میں بریگنولز میں گھر خریدا تھا جبکہ دسمبر 2025 میں انہیں فرانسیسی شہریت بھی دی گئی۔

یہ انخلا اس وقت ہوا جب فرانس کے علاقے وار (Var) میں جنگلاتی آگ کے باعث حکام نے کئی علاقوں کو خالی کرانے کا حکم دیا۔ بدھ کی شام بریگنولز کے قریب آگ لگنے کے بعد کچھ علاقوں کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ جمعرات کی دوپہر کچھ افراد کو گھروں کو واپس جانے کی اجازت دے دی گئی، تاہم حکام نے خبردار کیا کہ شدید گرمی اور تیز ہواؤں کے باعث خطرہ اب بھی موجود ہے۔

جارج کلونی نے 2025 میں بتایا تھا کہ فرانس منتقل ہونے کا فیصلہ انہوں نے اپنے جڑواں بچوں ایلا اور الیگزینڈر کے بہتر اور پرسکون مستقبل کے لیے کیا، تاکہ وہ ہالی ووڈ کی شہرت اور میڈیا کی توجہ سے دور ایک عام زندگی گزار سکیں۔

انہوں نے ایسکوائر میگزین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کے بچے پاپارازی (میڈیا فوٹوگرافرز) کے خوف میں زندگی گزاریں یا ان کا موازنہ دوسرے مشہور شخصیات کے بچوں سے کیا جائے۔

کلونی نے بتایا کہ فرانس میں فارم پر ان کی زندگی زیادہ سادہ ہے، جہاں بچے آئی پیڈز میں مصروف رہنے کے بجائے بڑوں کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں اور گھر کے کاموں میں حصہ لیتے ہیں۔

دوسری جانب یورپ کے کئی ممالک شدید گرمی کے باعث پھیلنے والی جنگلاتی آگ سے نمٹ رہے ہیں۔ بلند درجہ حرارت نے کئی علاقوں کو خشک اور آگ کے لیے انتہائی خطرناک بنا دیا ہے۔

فرانس میں جنگلاتی آگ کے باعث اب تک 2 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد اور سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ گیروند (Gironde) کے علاقے میں لگنے والی آگ فرانس کی 1949 کے بعد سب سے بڑی آگ قرار دی جا رہی ہے، جس نے تقریباً 42 ہزار ہیکٹر رقبہ تباہ کر دیا ہے۔

حکام کے مطابق مسلسل تیسرے روز آگ پر قابو پانے میں کامیابی ملی ہے اور جمعرات کو متوقع بارش سے صورتحال مزید بہتر ہونے کی امید ہے۔

یونان اور اسپین بھی جنگلاتی آگ سے متاثر ہیں۔ یونان کے جزیرے کریٹ میں تیز ہواؤں کے باعث آگ پھیلنے کے بعد ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

بدھ کے روز کریٹ کے علاقے کریا وریسی کے قریب دو فائر فائٹرز آگ میں پھنس کر ہلاک ہو گئے، جبکہ ایک اور فائر فائٹر پیلوپونیز کے بندرگاہی شہر گیتھیو کے قریب جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Top Post Ad

Below Post Ad

Bottom Ad